NAEEM MALIK نعیم ملک

2009

Filed under: Naeem Malik — naeemmalik @ 6:06 pm

Islamabadtonight24sep2009.jpg Islamabadtonight24sep2009.jpg

Islamabad Tonight – 24th September 2009
Tariq Fatmi Analyst, Gen. (R) Shoaib Amjed Analyst and

Asif Ayadi in fresh episode of Islamabad Tonight

Islamabad Tonight 24th September 2009

لائین آف کنڑول کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کیلیے پاکستان پر دباو ڈالا جا رہا ہے- آصف ایزدی
فریندز آف پاکستان کے اجلاس سے بہت امید وابستہ نہیں کرنی چاھیے -جنرل امجد شعیب
بارک اوباما کی اجلاس میں شرکت سے امداد ملنے کے امکانات کافی روشن ہیں-حسن عباس…
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کی شرایط مانتے وقت پاکستان کے مفادات کا خیال نحیں رکھا جا رھا-جنرل امجد شعیب
کشمیر کے مسلے کا کوی بھی امریکی حل
پاکستان کی بجاے بھارت کے حق میں ھو گا-آصف ایزدی

پاکستان کو جھادی گروپس ختم کرنا ھوں گے-طارق فاطمی
جہادی گروپس کی وجہ سےچین سمیت بہت سے مما لک پاکستان سے ناراض ہیں- طارق فاطمی

Islamabad Tonight 24th September 2009 Islamabad Tonight 24th September 2009

Dispute on Moon Sighting

Filed under: Naeem Malik — naeemmalik @ 12:35 pm

Filed under: Naeem Malik — naeemmalik @ 6:24 am

اگر امداد نہ ملی تو دہشت گردوں کے خلاف ج نگ کا انجام ناکامی ہ و گا

Filed under: Naeem Malik — naeemmalik @ 5:20 am

فغانستان پرامریکی کمانڈر کی رپورٹ: امریکی تھنک ٹینک کیا کہتے ہیں؟

US soldiers in Bagram, Afghanistan

فوٹو US Army

امریکی فوجی افغانستان میں بگرام کے فوجی اڈے پر مشق میں مصروف ہیں ۔۔۔ فائل فوٹو

شیئر کیجیئےامریکی مبصرین کے خیال کے جنرل سٹینلی میک کرسٹل کی جائزہ رپورٹ حقیقت پسندی پر مبنی ہے مگر ایسے حالات میں جب پہلے ہی افغانستان میں جنگ کے لیے امریکی عوام کی طرف سے مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے صدر براک اوباما کے لیے رپورٹ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مزید فوجیں افغانستان بھجوانا یا مزید وسائل مہیا کرنا مشکل فیصلہ ہو گا۔

گذشتہ روز اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ویب سائٹ پر افغانستان میں امریکہ اور نیٹو فورسز کے چوٹی کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل کی طرف سے مرتب کردہ وہ جائزہ رپورٹ شائع کر دی تھی جو ابھی تک باضابطہ طور پر منظر عام پر نہیں آئی تھی اور اسے صیغئہ راز میں رکھا جا رہا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اگر آئندہ برس تک افغانستان میں افغان اور نیٹو فوجوں کی تعداد میں اضافہ اور دنیا بھر کی طرف سے وسائل فراہم نہ کیے گئے توامکان ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا انجام ناکامی ہو گا۔

کمانڈر نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ یہ اقدامات عسکریت پسندوں کی کامیابیوں کو ناکامیوں میں بدلنے کے لیے بے حد ناگزیر ہیں۔

دوسری طرف امریکہ میں عوامی رائے عامہ کے حالیہ جائزے ظاہر کر رہے ہیں کہ 70 فی صد سے زائد امریکی افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کے حامی نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکی فوجوں کی افغانستان سے واپسی کا کوئی نظام الاوقات طے ہو۔

معروف تجزیہ کار کرسٹین فئیر جارج ٹاون یونیورسٹی واشنگٹن سے وابستہ ہیں اور افغانستان کے حالیہ دورے سمیت کئی مرتبہ وہاں جاکر صورتِ حال کا ازخود مشاہدہ کر چکی ہیں۔ انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مبصرین رپورٹ کے صرف فوجی پہلو پر توجہ دے رہے ہیں اور افغانستا ن میں حکومتی اداروں کے اندر کرپشن سے صرفِ نظر کر رہے ہیں، جس کا ذکر امریکی جنرل نے خاص طور پر کیا ہے۔ ان کے خیال میں پولیس کے فنکشن سے لے کر انتخابی عمل تک بدعنوانی نظر آتی ہے۔ محکمہ انصاف مکمل طور پر فعال نہیں۔ ان حالات میں یہ جان لینا ضروری ہے کہ محض فوجی طاقت سے جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔

کرسٹین فئیر یہ بھی کہتی ہیں کہ امریکی عوام جو افغانستان میں جنگ کے مخالف ہیں، انہیں ¬¬¬¬افغانستان میں امریکی موجودگی کی وجہ سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے اور میرے خیال میں ہماری موجودگی وہاں بلا جواز نہیں ہے۔

اس سوال پر کہ کیا امریکی صدر کا یہ کہنا کہ وہ کسی ملک پر قبضہ جاری نہیں رکھنا چاہتے کیا افغانستان سے مستقبل قریب میں انخلا کا اشارہ ہو سکتا ہے، کرسٹین فئیر نے کہا کہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک پر قبضہ نہیں رکھنا چاہے گا۔ تکنیکی اعتبار سے ہم قابض ہیں کیونکہ ہم کسی فوجی معاہدے کے تحت افغانستان نہیں گئے۔ لیکن یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت افغانستان میں دو محاذ کھلے ہیں۔ ایک تو نیٹو فورسز کارروائی کر رہی ہیں اور دوسرا دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ وہ تجویز کرتی ہیں کہ اس مسئلے پر قومی بحث ہونی چاہیئے۔

لیزاکرٹس واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک دی ہیریٹج فاؤنڈیشن سے وابستہ سینئرریسرچ فیلو ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ جنرل سٹینلی میک کرسٹل کی رپورٹ بہت حقیقت پسندانہ ہے مگر اس پر کوئی تنقید کی جا سکتی ہے تو وہ یہ کہ رپورٹ میں اس بات کو تو تسلیم کیا گیا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی قیادت پاکستان سے آزادانہ طور پر مصروفِ عمل ہے لیکن اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا کہ آخرپاکستان میں موجود ان شرپسندوں کے ساتھ کس طرح نمٹا جائے گا؟اور پاکستان کو ان کے خلاف کریک ڈاون پر کیسے آمادہ کیا جائے؟

اس سوال پر کہ پاکستان نے تو حالیہ مہینوں میں بظاہر کامیاب فوجی آپریشن کیا ہے، لیزا کرٹس نے کہا کہ یہ بات درست ہے اور پاکستانی فوج کے آپریشن کو سراہا گیا ہے مگر ابھی مزید بہت کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے۔

لیزا کرٹس کے خیال میں فوجوں میں اضافے کا مقصد فضائی حملو ں میں کمی کے ذریعے شہری ہلاکتوں سے گریز کرنا ہو سکتا ہے اور یہ وہی حکمت عملی ہے جو جنرل پٹریئس نے عراق میں اختیار کی تھی۔

پروفیسر مارگریٹ ملز، اوہائیو یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ افغانستان کے کلچراور سیاست پر ایوارڈ پانے والے کتاب کی مصنفہ بھی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتی ہیں کہ صدر اوباما اپنے پیش رو کی نسبت اپنے مقاصد اور اپروچ میں بہت واضح ہیں اور اور مسائل کو حل کرنے کا ان کا انداز بہت نپا تلا ہے۔ افغانستان بارے جائزہ رپورٹ بھی مبنی پر حقائق ہے اسے’ فئیرمونگرنگ‘ یعنی خوف کی تجارت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کا اب بھی جواز ہے کہ امریکی سلامتی کو کہیں سے خطرہ لاحق ہے تو اسی خطے میں موجود عسکریت پسندوں سے ہے۔

واضح رہے کہ جنرل میک کرسٹل کی جائزہ رپورٹ کی تفصیلات قبل ازوقت منکشف ہونے کے بعد امریکی محکمہٴ خارجہ کے حکام نے امریکی کمانڈر کو اپنی رپورٹ باضابطہ طور پر پیش کرنے میں کچھ تاخیر کرنے کو کہاہے۔